Thursday, 26 February 2015

ا للہ پر ا يما ن اور ثو ا ب کياہے





و لا يت کيا ہے







ذ کر الہی دلو ں کیی پا لش ہے


ذکر الہی دلوں کی پالش ہے

بندہ اس بات کا دھیان رکھے کہ میرے دل میں جو سوال نقش تھا، کیا وہ زندہ ہے؟ کیا میں اپنے اس محسن عظیمﷺ کو پہچان سکتا ہوں جس نے مجھے انسان بنا دیا، جس کی ذات ستودہ صفات نے مجھے اللہ کا کلمہ  سکھایا اور جس کی رسالت کی پناہ میں میرے دو عالم ہیں ! کیا میرا رشتہ محمد رسول اللہ ﷺ سے استوار ہے اور مجھے اس رشتے کی کچھ فکر بھی ہے؟ 
کیا میں دنیا کے کام کرتے وقت دن رات بسر کرتے وقت یہ لحاظ کرتا ہوں کہ کوئی ایسا کام نہ ہو جائے کہ مجھ سے میرے آقا و مولا خفا ہو جائیں! 
کہیں اس رشتے میں دراڑ نہ آجائے اور تعلقات کمزور پڑ جائیں! 
اگر یہ بات ہے تو ایمان زندہ ہے ۔ 
خدانخواستہ اگر یہ نہیں ہے تو لوح قلب کو دھوئے  اور خوب رگڑ کر دھوئیے ۔
 دل کو دھونے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ 
آقائے نامدار ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر چیز پر زنگ لگتا ۔  دلوں پر بھی زنگ لگ جاتا ہے۔ ہر چیز کی پالش ہے لوہے کی الگ ہے، پیتل کی الگ ہے سونے کی الگ ہے اور اسے پالش کیا جائے تو شیشے کی طرح چمکنے لگتا ہے ۔ 
وَصِقَالَةُ الْقُلُوبِ ذِكْرُ اللَّهِ ۔ اور دلوں کی پالش اللہ کا ذکر ہے۔ پھر اسے اللہ اللہ سے دھوئیے ۔ اللہ اللہ سے اس کو پالش کیجئے ۔ اسے اللہ اللہ سے صاف کیجئے اور اتنی دفعہ اللہ اللہ کیجئے کہ یہ درد پھر سے زندہ ہو جائے اس میں ٹیسیں اٹھیں، پھر وہ تلاش کرےاور وہ در حبیب ﷺپر پہنچے اور جمال مصطفی ﷺسے سیراب ہو ۔

 

Wednesday, 25 February 2015

دعوت خاص وعام





سلسلہ  نقشبندیہ میں اویسیہ میں بطریق انفاس ذکر سکھلایا جاتا ہے،لطائف مراقبات سے گزار کر فنا فی الرسولﷺ کا مراقبہ  میں سالک
کو بارگاہ نبویﷺ میں پیش کر کے دست اقدسﷺ پر بیعت کا شرف حاصل ہوتا ہے ،اصطلاح تصوف میں اسے "روحانی بیعت "کہا 
جاتا  ہے۔بحمد تعالیٰ یہ نعمت ہزاروں سالکین کو نصیب ہے ،اگر آپ اس کے طالب ہیں ،تو دعوت خاص وعام ہیں۔ 

’’میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ میں ایک نگاہ میں ایک شخص کے وجود کے ایک ایک ذرے کو اللہ کا ذکر سکھا سکتا ہوں۔ یہ مجھ پر اللہ کا احسان ہے جس کام کیلئے برسوں لگتے ہیںجس کے لئے بڑے بڑے صوفی برسوں کا وقت طلب کرتے ہیںمجھے اللہ نے یہ قوت بخشی ہے کہ وہ بات میں ایک لمحے میں کر سکتا ہوں۔ یہ اللہ کی عطا ہے۔ماحول میں پھیلی ہوئی دلدل میں آپ کو میری ذات کی صورت میں ایک مضبوط چٹان مل سکتی ہے جس پر آپ پاؤں رکھ کر انشاء اللہاللہ کی بارگاہ میں تو پہنچ سکتے ہیں لیکن اس سے بت نہیں تراش سکتے۔ مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ کوئی شخص میرے ہاتھ کو بوسہ دے۔
کنز الطالبین صفحہ ۱۰۱

ميں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ آدمی رضائے الٰہی کو مقصد بنا کر اور طلب صادق لے کر ہمارے سلسلہ(نقشبندیہ اویسیہ دار لعرفان منارہ چکوال پاکستان) میں آجائے ،تو انشاء اللہ چھ ماہ کے عرصہ میں روح سے کلام سے کلام کر لے گا۔،روح کو بھی دیکھ لے گا،حتی کہ یہ بھی دیکھ لے گا ،روح علین میں ہو اور بدن صیح ہو تو روح کا تعلق بدن سے کس طرح ہوتا ہے،اور اگر بدن صیح نہ ہو تو ذرات جسم کے ساتھ روح کا تعلق کیسے ہوتا ہے،اور یہ بھی دیکھ لے گا کہ نبی کریم ﷺ کی روح مبارک کا تعلق آپﷺ کے جسم اقدس سے جس صورت میں ہے ،اسکی کفیت کیا ہے،اور آپ ﷺ قبر مبارک میں کس کفیت سے زندہ ہیں ،بلکہ یہ بھی دیکھ لے گا کہ حضور ﷺ کے سینہ مبارک سے انوار کی بارش کس طرح ہوتی ہے ،اور ان انوار کی تاریں کس طرح مومنوں کے ایمان کو قائم رکھے ہوئے ہیں ۔

دلائل السلوک ص195)
میں جانتا ہوں کہ میری ان باتوں سے بعض لوگوں کو سخت تکلیف ہوگی ،مگر یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ ہر زمانے میں ایسا ہوتا رہا ہے،مگر میری غرض اظہار حق ہے ،اور تصوف و سلوک اسلامی کو حقیقی رنگ میں پیش کرنا ہے ،جسے دنیا پرست دکانداروں نے ایسا مسخ کر دیا ہے کہ اسکا پہچاننا مشکل ہو گیا ہے ،آنے والی نسلیں انشاء اللہ تعالیٰ اس سے ضرور فائدہ اٹھائیں گی۔

اپنے رب کو بہت یاد کر

  بِ سْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ قَ الَ رَبِّ اجْعَلْ لِّىٓ اٰيَةً ۖ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ اَيَّامٍ...